Saturday, June 6, 2015

ایک سوال آپ سے بھی،،،،،

بول دفتر کے باہر ہونے والے احتجاج میں دھواں دار تقاریر، لہو گرما دینے والے نعرے، جوش و جذبے سے بھرپور تالیاں مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں، یہ کوئی سیاسی جلسہ تو ہے نہیں جہاں پیسے دے کر سیاسی ورکروں کو مراعات دینے کا وعدہ کرکے جلسہ گاہ میں لوگوں کی تعداد بڑھانے کا ہدف مقرر کروایا جائے، یہاں تو روز 8 گھنٹے ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد ملازمین جوش وجذبے سے لبریز اپنے حق کی آواز بلند کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں، لیکن انھیں آخر کیا ضرورت کہ روز یہاں آئیں؟ ان کی نوکریاں تو سالوں سے پکی ہیں،،، یہ احتجاج تو وہ کریں جنھیں ابھی آئے چند ماہ یا کچھ روز ہوئے اور ان کا روزگار خطرے میں پڑگیا، یہ سوال ذہن میں کافی بار آیا جواب ملا لیکن تاخیر سے
کہتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی کا دارومدار اس ادارے کے محنتی اور باہمت ملازمین پر ہوتا ہے جو ہر اچھے برے وقتوں میں اپنے ادارے کو ترقی کی منازلوں پر پہنچانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا ڈالتے ہیں، ایسے ملازمین کو نہ دن کی فکر ہوتی ہے نہ رات کی پرواہ ان کے سر پر تو محنت کا بھوت سوار ہوتا ہے،،، کسی محفل میں جب وہ کسی کی زبان سے اتنا سن لیں کہ فلاں ادارہ بہت بہترین ہے تو اس میں کام کرنے والے ملازم کا خون سیروں بڑھ جاتا ہے، ملازم کسی بھی ادارے میں کام کرے اس کے لئے گھر کے بعد وہ ہی سب کچھ ہوجاتا ہے،،، میں نے کئی ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو اپنے ادارے کی برائیاں گنواتے نہیں تھکتے ان کو اگر ادارے نے کچھ نوازا ہو تو بھی انکی زبان پر شکر کے الفاظ نہیں، اور کچھ ایسے بھی جو ادارے کو سب کچھ دیں اور بدلے میں ادارہ انکو عزت نہ دے تو وہ خاموشی سے کنارہ کرلیتے ہیں۔
 میں جب بول میں آئی تو یہاں ملنے والی بنیادی سہولتوں سے ابھی  واقف ہونا شروع ہی ہوئی تھی کہ ایگزیکٹ کے اسکینڈل نے "بول" کو بھی لپیٹ میں لے ڈالا، رپورٹر ہونے کی حیثیت سے لوگوں سے سوالات کرنا اور ان سے حقیقت جاننے کی عادت سے مجبور میں نے ان لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی جو نہ تو میرے کام سے واقف تھے نہ میرے چہرے سے آشنا،،، میں نے اس طبقے کا انتخاب کیا جسے ہمارے معاشرے میں ہمیشہ "کام کے وقت" ہی یاد رکھا جاتا ہے،،، میری مراد ڈرائیورز، صفائی کے انتظامی امور سنبھالنے والے اور گارڈز سے ہے، میں نے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں سے ایک ہی سوال کیا کہ اس مشکل وقت میں جب بول اور ایگزیکٹ بحران کا شکار ہے ان کا کیا ارادہ ہے، کیا انھوں نے کوئی نئی نوکری دیکھ لی ہے یا کوشش میں لگے ہوئے ہیں،،، حیرت تب ہوئی  جب جواب ایک ملا کہ" ہم تو جب سے اس ادارے سے وابستہ ہوئے ہیں ہم نے ہمیشہ سکھ ہی دیکھا،، عزت پائی، مسائل کو حل ہوتے دیکھا اب اگر پہلی بار ایسا کڑا وقت آیا ہے تو کیسے منہ موڑ کر چلے جائیں"
کسی نے بتایا کہ اس کی والدہ کے علاج پر لاکھوں کی رقم ادارے نے خرچ کی، کسی نے کہا کہ اس نے اپنی بہن کی شادی اس لئے بے فکری سے کی اسے ادارے کے مالک نے کہا تھا کہ فکر نہیں کرنا جتنا خرچ آئے مجھے بتانا،،، کسی نے نم آنکھوں سے کہا کہ ایک بار کسی سینئر نے ایک محفل میں کھانے کے دوران کچھ تلخ بات کہی تھی دل دکھا تو ہم مالک سے شکایت کر بیٹھے،،، مالک نے فوری طور پر اس شخص کو نوکری سےیہ کہہ کر برطرف کر ڈالا کہ جو ہماری خدمت پر مامور ہیں اگر ان کو خدمت کے عیوض عزت نہیں دے سکتے تو تمہاری ا دارے کو ضرورت نہیں، اس شخص کا کہنا تھا کہ جس نے ہماری عزت کا خیال رکھا ہو خدا کیونکر اسے رسوا کرے گا، یہی نہیں میں نے کئی لوگوں سے ایک جیسی باتیں سنیں،،، لیکن ایک بات دل میں اتر گئی جب کسی نے کہا کہ ہم اتنے پڑھے لکھے نہیں نہ آپ جیسے قابل ہیں جوزیادہ مراعات اور سہولتوں کے عادی ہیں لیکن جو کچھ ہورہا ہے اسے دیکھ کر دکھ ضرور ہوتا ہے اور اس بات پر اطمینان بھی کہ شکر ہے کہ ہمارا شمار ان پڑھے لکھے اور طاقتور لوگوں میں نہیں جو اپنی طاقت کے نشے میں ہزاروں لوگوں کی روزی سے کھیلنے کے در پر ہیں، آپ لوگوں کی باتیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ سازش بہت بڑی ہے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں ،،،  لیکن میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگوں کی ضرورتیں شاید اتنی زیادہ ہیں کہ انھیں سہولتیں پہلے اور احسانات بعد میں یاد رہتےہیں، اور وہ لوگ جو آپ سمیت سب کی روزی کے دشمن بنے ہوئے ہیں ان سے کوئ یہ  توجاکر پوچھے تم کسی ادارے کو کمزور کر سکتے ہو، اسے مالی مشکلات کا شکار بھی کر سکتے ہو، لیکن اس ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کا حوصلہ کیسے توڑ سکتے ہو جس نے ادارے کو اپنا خون پسینہ دیا تو مالک نے 10 قدم آگے بڑھ کر اپنے ملازم کا مان رکھا خیال رکھا، ایسے مالک کو کون چھوڑ کر جائیگا، وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی، سال بعد اس میں اضافہ ہماری خوشیوں دکھ سکھ میں ہمارا ساتھ دینے والا یہ ادارہ اگر آج مشکل میں ہے تو نہ تو یہ حالات ہمیں توڑ سکتے ہیں  نہ ہی تقسیم کر سکتے ہیں،،، اس ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ہمارا کردار رہا ہے ہم اپنے مالک کا احسان یاد رکھنے والوں میں سے ہیں، ہمیں سکھایا گیا ہے کہ جب کوئی نیا اس ادارے سے وابستہ ہو تو اسے خوش آمدید کہو اپنا سمجھو تاکہ وہ اس ا دارے کو اپنا سمجھ کر کام کرے اور اسے اجنبیت محسوس نہ ہو، اس ڈرائیور نے ہنستے ہوئے کہا کہ  ایک تو اس ادارے کا نام بھی "بول" ہے بھلا کوئی ان لوگوں سے پوچھے کہ کیا کبھی کوئی بولنے سے رکا ہے؟ جس کا نام "بول " ہو اسے تو بولنا ہی ہوگا اور باقی سب کو سننا ہوگا۔


 ویسے باجی یاد آیا، چھوٹا منہ بڑی بات آپ نے اتنے سوالات کئے، ایک سوال آپ سے بھی ؟،،،، آپ نے اپنا ادارہ کیوں چھوڑا تھا؟ اس سوال نے یک دم مجھے چونکا دیا،،، اور ذہن میں انشاء جی کے شعر کا ایک مصرعہ یاد آیا "ہم چپ رہے، ہم ہنس دئیے، منظور تھا پردہ تیرا" !!!